لبوں پہ ذکرِ خدا، دل میں فاصلے رکھتے ہیں
یہ لوگ کیسی عجب رسمِ زندگی رکھتے ہیں
غریب بھوک سے مر جائے، ہم دُعا کرتے ہیں
مگر وہ ہاتھ جو پھیلائے، ہم جھٹک دیتے ہیں
وہ "اللہ کے نام" پہ دہلیز پر جو آتا ہے
ہمیں وہ شخص فقط ایک سوالی نظر آتا ہے
نہ جانے کتنے ہی سجدے قبول ہوتے ہیں
مگر کسی کے لیے دل کہاں پگھلتے ہیں
ہمیں غریب کے آنسو بہت عزیز لگتے ہیں
مگر غریب سے نظریں چرا کے چلتے ہیں
زبان پر عدل کے نعرے، لبوں پہ پیار کی باتیں
عمل میں ذات، مرتبہ، دولت کے سلسلے رکھتے ہیں
کہتے ہیں: "آدمی، آدمی کے برابر ہے"
پھر ایک بھوکے کو دیکھیں تو راستے بدلتے ہیں
کسی امیر کی محفل میں رحم یاد آتا ہے
کسی غریب کے گھر میں اصول بھول جاتے ہیں
وہ ہاتھ جو ابھی انصاف کے علم اٹھاتے ہیں
وہی کمزور کی آواز کیوں دباتے ہیں؟
یہ کیسی نیکی ہے، کیسا یہ خیر کا دعویٰ
چراغ گھر میں جلاتے ہیں، راہ میں بجھاتے ہیں
ہمیں گناہ بھی کرنا ہے اور پاک بھی رہنا
سو اپنے جرم کو اچھے نام سے چھپاتے ہیں
غرور ہو تو اسے "عزتِ نفس" کہتے ہیں
لالچ آئے تو اسے "حق" کا نام دیتے ہیں
دلوں میں زہر لیے، لب پہ پھول رکھتے ہیں
یہ لوگ کتنے سلیقے سے دل دکھاتے ہیں
کسی کی بھوک پہ مضمون، کسی کے درد پہ شعر
مگر جو درد قریب آئے، منہ چھپاتے ہیں
خدا کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں آسمانوں میں
اور اُس کے بندے کو دروازے سے لوٹاتے ہیں
یہ کیسی بندگی ہے، یہ کیسی پارسائی ہے
کہ سجدہ گاہ میں جھکتے ہیں، دل میں اکڑتے ہیں
منافقت بھی عجب فن ہے اس زمانے کا
کہ آئینے بھی ہمیں دیکھ کر مسکراتے ہیں
خدا کے نام پہ دیتے ہیں وعظ دنیا کو
مگر خدا کے بندوں سے خود کو بچاتے ہیں
کبھی تو اپنے ہی الفاظ کا حساب کرو
جو کہہ رہے ہو، وہی اپنے عمل میں لاتے ہیں
کہ انسانیت فقط لفظ، شعر، تقریر نہیں
یہ وہ چراغ ہے جو بانٹنے سے جلتے ہیں
اگر کسی کے لیے دل میں درد باقی ہے
تو سمجھو ابھی کہیں انسانیت بھی باقی ہے۔
رضا، فقط یہ نہ لکھ کہ زمانہ منافق ہے
کبھی چراغِ عمل بھی کہیں جلانا ہے۔